5 اشعار

رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے

Rehm kar zalim ki kya bood charagh-e-kushta hai

رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے

«رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہےنبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے

دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیںورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے

نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہےجام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے

داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدلالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے

شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کاصبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے

— مرزا غالب