11 اشعار

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف

Rashk kahta hai ke us ka ghair se ikhlas haif

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف

«رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیفعقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا

ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہےگردش مجنوں بہ چشمک‌ ہائے لیلیٰ آشنا

شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجزذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا

میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہےعافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا

شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیےمیرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا

کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔسنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا

خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنابیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا

آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاکورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا

جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیںآشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا

ربط یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہارسبزہ بیگانہ صبا آوارہ گل نا آشنا

بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیںیار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا

— مرزا غالب