7 اشعار

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے

Rone se aur ishq mein be-bak ho gaye

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے

«رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے

صرف بہائے مے ہوئے آلات مے کشیتھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے

رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تمبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے

کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثرپردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے

پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کاآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے

کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے

— مرزا غالب