14 اشعار

شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا

Shauq har rang raqeeb-e-sar-o-saman nikla

شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا

«شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلاقیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا ربتیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا

بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفلجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت دردکام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا

تھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسندسخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔآہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلامیری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا

ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاکشوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا

کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخرجس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا

کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا ربنقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا

شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوقلاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا

شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تکآخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا

جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسنجو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا

میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خرابپیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا

— مرزا غالب