13 اشعار

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

Shikwe ke naam se be-mehr khafa hota hai

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

«شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے

پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجااک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھوشکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے

عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چالسست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے

کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہمآپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے

خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہکہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے

نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور ابلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے

خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخنشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے

اے شہنشاہ کواکب سپہ و مہر علمتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے

سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجےتو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے

ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلالآستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے

میں جو گستاخ ہوں آئین غزل خوانی میںیہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے

رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معافآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

— مرزا غالب