6 اشعار

تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے

Tapish se meri waqif kashmakash-e-har tar-e-bistar hai

تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے

«تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہےمرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے

سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہےدل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے

خوشا اقبال رنجوری عیادت کو تم آئے ہوفروغ شمع بالیں طالع بیدار بستر ہے

بہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائیشعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے

ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کیہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے

کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبکہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے

— مرزا غالب