7 اشعار

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے

Taskeen ko ham na ro'ein jo zauq-e-nazar mile

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے

«تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملےحوران خلد میں تری صورت مگر ملے

اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے

ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہمہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیممیرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے

تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیافرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے

لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

اے ساکنان کوچۂ دل دار دیکھناتم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں