14 اشعار

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

Tere tausan ko saba baandhte hain

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

«تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں

آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں

تیری فرصت کے مقابل اے عمربرق کو پابہ حنا باندھتے ہیں

قید ہستی سے رہائی معلوماشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں

نشۂ رنگ سے ہے واشد گلمست کب بند قبا باندھتے ہیں

غلطی ہائے مضامیں مت پوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

اہل تدبیر کی واماندگیاںآبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں

سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں

پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیںمیرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں

حسن افسردہ دل ہا رنگیںشوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں

قید میں بھی ہے اسیری آزادچشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں

شیخ جی کعبے کا جانا معلومآپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں

کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔدست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں

تیرے بیمار پہ ہیں فریادیوہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں