7 اشعار

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو

Tum apne shikwe ki baatein na khod khod ke poocho

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو

«تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے

دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے

نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہےکہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے

ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہلب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے

خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہوجنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے

چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشاکہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے

امام ظاہر و باطن امیر صورت و معنیعلیؔ ولی اسداللہ جانشین نبی ہے

— مرزا غالب