10 اشعار

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

Wa-rasta is se hain ki muhabbat hi kyon na ho

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

«وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کاہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو

پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوایوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو

ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

ہنگامۂ زبونی ہمت ہے انفعالحاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو

مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئیعمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔاس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

— مرزا غالب