9 اشعار

وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا

Woh meri cheen-e-jabeen se gham-e-pinhan samjha

وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا

«وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھاراز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا

یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوزچاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا

شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھاس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا

بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرامرخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا

عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگانبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا

سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبیہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا

تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگدفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا

دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔغلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا

ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمعشعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا

— مرزا غالب