10 اشعار

وہ فراق اور وہ وصال کہاں

Woh firaq aur woh visal kahan

وہ فراق اور وہ وصال کہاں

«وہ فراق اور وہ وصال کہاں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصت کاروبار شوق کسےذوق نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہاشور سودائے خط و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصور سےاب وہ رعنائی خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں طاقت جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشقواں جو جاویں گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبوہ عناصر میں اعتدال کہاں

بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرےپر مجھے طاقت سوال کہاں

فلک سفلہ بے محابا ہےاس ستمگر کو انفعال کہاں

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں