5 اشعار

یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے

Yaad hai shaadi mein bhi hangame ya Rab mujhe

یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے

«یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھےسبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے

ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن سخنتھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے

یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیےرشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے

طبع ہے مشتاق لذت ‌ہاۓ حسرت کیا کروںآرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے

دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئےعشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے

— مرزا غالب