8 اشعار

یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا

Yek zarra zameen nahin be-kaar bagh ka

یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا

«یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا

بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہیکھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلکہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھےتریاکی قدیم ہوں دود چراغ کا

سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئےپر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غباریہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا

باغ شگفتہ تیرا بساط نشاط دلابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟

جوش بہار کلفت نظارہ ہے اسدؔہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا

— مرزا غالب