4 اشعار

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

Yeh hum jo hijr mein deewar-o-dar ko dekhte hain

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

«یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کویہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیںہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

— مرزا غالب