11 اشعار

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

Yeh na thi hamari qismat ki visal-e-yaar hota

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

«یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں