4 اشعار

ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے

Za bas-ki mashq-e-tamasha junoon alamat hai

ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے

«ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہےکشاد و بست مژہ سیلی ندامت ہے

نہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدیتجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے

بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑنگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے

وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیادجنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے

— مرزا غالب