9 اشعار

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک

Zakhm par chhidkein kahan tiflan-e-be-parwa namak

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک

«زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمککیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک

گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دلورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک

مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیونالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک

شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آجگرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک

داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہیاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک

چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہےدل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک

غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر دردزخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک

یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میںزخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک

اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔزور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک

— مرزا غالب