9 اشعار

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil araam nikalta

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

«گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن» میں 28 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتادم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کےقاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا

کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تمکیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا

جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سےاپنی طرح اے گردش ایام نکلتا

ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نامتھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا

کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوںناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا

تھی نوحہ زنی دل کے جنازے پہ ضروریشاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا

کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجریہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا

حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہوتیںبت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا

— مومن خان مومن

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں