12 اشعار

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ

Jo tere munh se na ho sharamsaar aaina

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ

«جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن» میں 28 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہتو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہ

کہے ہے دیکھ کے رخسار یار آئینہکہ اس صفائی پہ صدقے نثار آئینہ

سیاہ رو نہ کرے ترک الفت گلفاممیں بوالہوس کو دکھاؤں ہزار آئینہ

صفائے دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میںچراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ

سمجھ لیا مگر اس سبز رنگ کو طوطیکہ ہے نظارے کا امیدوار آئینہ

وہ سخت جاں ہوں کہ دکھلائیں گر دم مردنتو توڑ دے کمر کوہسار آئینہ

مقابل اس رخ روشن کے کھل گئی قلعینہ ٹھہرا آگ پہ سیماب وار آئینہ

سما رہے ہیں مگر تیرے نو بہ نو جلوےکہ بن گیا ہے طلسم بہار آئینہ

شکست رنگ پہ مستی میں ہنستے ہیں ہم بھیدکھائیں گے انہیں وقت خمار آئینہ

مجھے تو کہتے ہو مت دیکھ میری جانب تواور آپ دیکھتے ہو بار بار آئینہ

بلا ہے منع وفا نور اڑ گیا ناصحتو لے کے دیکھ تو رنگ عذار آئینہ

سمجھ تو مومنؔ اگر ناروا ہو خود بینیتو دیکھیں کاہے کو پرہیزگار آئینہ

— مومن خان مومن

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں