10 اشعار

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا

Raz-e-nihan zaban-e-aghyar tak na pahuncha

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا

«راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچاکیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا

اللہ رے ناتوانی جب شدت قلق میںبالیں سے سر اٹھایا دیوار تک نہ پہنچا

روتے تو رحم آتا سو اس کے روبرو تواک قطرہ خوں بھی چشم خوں بار تک نہ پہنچا

عاشق سے مت بیاں کر قتل عدو کا مژدہپیغام مرگ ہے یہ بیمار تک نہ پہنچا

بے بخت رنگ خوبی کس کام کا کہ میں توتھا گل ولے کسی کی دستار تک نہ پہنچا

مفت اول سخن میں عاشق نے جان دے دیقاصد بیان تیرا اقرار تک نہ پہنچا

تھی خار راہ تیری مژگاں کی یاد پھر شبتا صبح خواب چشم بیدار تک نہ پہنچا

بخت رسا عدو کے جو چاہے سو کہے ابیک بار یار مجھ تک میں یار تک نہ پہنچا

غیروں سے اس نے ہرگز چھوڑی نہ ہاتھا پائیجب تک اجل کا صدمہ دو چار تک نہ پہنچا

مومنؔ اسی نے مجھ سے دی برتری کسی کوجو پست فہم میرے اشعار تک نہ پہنچا

— مومن خان مومن