10 اشعار

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

Tum bhi rehne lage khafa saahib

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

«تم بھی رہنے لگے خفا صاحب» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

تم بھی رہنے لگے خفا صاحبکہیں سایہ مرا پڑا صاحب

ہے یہ بندہ ہی بے وفا صاحبغیر اور تم بھلے بھلا صاحب

کیوں الجھتے ہو جنبش لب سےخیر ہے میں نے کیا کیا صاحب

کیوں لگے دینے خط آزادیکچھ گنہ بھی غلام کا صاحب

ہائے ری چھیڑ رات سن سن کےحال میرا کہا کہ کیا صاحب

دم آخر بھی تم نہیں آتےبندگی اب کہ میں چلا صاحب

ستم آزار ظلم و جور و جفاجو کیا سو بھلا کیا صاحب

کس سے بگڑے تھے کس پہ غصہ تھارات تم کس پہ تھے خفا صاحب

کس کو دیتے تھے گالیاں لاکھوںکس کا شب ذکر خیر تھا صاحب

نام عشق بتاں نہ لو مومنؔکیجئے بس خدا خدا صاحب

— مومن خان مومن