6 اشعار

بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے

Begana-e-wafa tera shewa hi aur hai

بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہے

دیر و حرم کی راہ میں رکھتے نہیں قدمہم رہروان شوق کا رستہ ہی اور ہے

دل بے وفا کے ہاتھ نہ بیچے گا باوفاتم سے نہیں بنے گا یہ سودا ہی اور ہے

اللہ دل نہ تم کو تڑپتا ہوا دکھائےدیکھا نہ جائے گا یہ تماشا ہی اور ہے

جلوہ فروش آپ ہیں میں دل فروش ہوںایسوں سے کیا بنے گا یہ سودا ہی اور ہے

ٹکڑے ہیں دل جگر کے مبارکؔ کہ شعر ہیںغزلوں کا آپ کی تو سفینہ ہی اور ہے

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں