9 اشعار

اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا

Ek baada shabab ka kya kya suroor tha

اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھاجو مرمٹا کسی پہ میں مجرم ضرور تھا

یہ آج بھی قصور ہے، کل بھی قصور تھابرقع اٹھا جو رُخ سے، حیا بن گئی نقاب

ہلکا سہی وصال میں پردہ ضرور تھاساقی نے مے تو سب کو پلائی تھی ایک سی

لیکن بقدر ظرف ہر اک کا سرور تھالازم تھی بے خودی ترے دیدار کے لیے

پردہ جو بیچ میں تھا، وہ میرا شعور تھابجھنے کی جو نہیں، وہ مرے دل کی آگ ہے

دم بھر میں جو جلا بھی، بجھا بھی، وہ طور تھاناصح نہ پوچھ حسن کے پتلوں کی دل کشی

ان پر تو دل کا ٹوٹ کے آنا ضرور تھاآرائشیں نہیں تھیں، آپ تھے وعدے کی رات تھی

میں تھا، تسلیاں تھیں، دل ناصبور تھاخاموش کاٹنی تھی، مبارک شب فراق

یہ کس نے تم سے کہہ دیا نالہ ضرور تھا

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں