4 اشعار

تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش

Tum waqt pe kar jaate ho paiman faramosh

تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموشیہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموش

محراب عبادت خم ابرو ہے بتوں کاکر بیٹھے ہیں کعبے کو مسلمان فراموش

آباد رہے شاد رہے یاد تمہاریمجھ سے نہیں ہونے کی کسی آن فراموش

کب بھولتے ہیں پاؤں مرے دشت نوردیکرتے ہیں کہاں ہاتھ گریبان فراموش

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں