6 اشعار

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا

Daaman saba na chhoo sake jis shah-sawar ka

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا

«دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کاپہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا

موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سےدل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا

خون جگر شراب و ترشح ہے چشم ترساغر مرا گرو نہیں ابر بہار کا

چشم کرم سے عاشق وحشی اسیر ہوالفت ہے دام آہوئے دل کے شکار کا

سونپا تھا کیا جنوں نے گریبان کو مرےلیتا ہے اب حساب جو یہ تار تار کا

سوداؔ شراب عشق نہ کہتے تھے ہم، نہ پیپایا مزا نہ تو نے اب اس کے خمار کا

— محمد رفیع سودا