5 اشعار

ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا

Har muzha par hai tere lakht-e-dil is ranjoor ka

ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا

«ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کاخون ہے سو دار پر ثابت مرے منصور کا

پونچھتے ہی پونچھتے گزرے ہے مجھ کو روز و شبچشم ہے یارب مری یا منہ کسی ناسور کا

آفتابِ صبحِ محشر داغ پر دل کے مرےحکم رکھتا ہے طبیبو! مرہمِ کافور کا

کیا کروں گا لے کے واعظ ہاتھ سے حوروں کے جامہوں میں ساغر کش کسی کی نرگسِ مخمور کا

اس قدر بنت العنب سے دل ہے سودا کا برازخم نے دل کے نہ دیکھا منہ کبھو انگور کا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں