7 اشعار

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا

Adam ka jism jab ke anasir se mil bana

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا

«آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بناکچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دِل بنا

سرگرمِ نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیبمت آشیاں چمن میں مرے متّصِل بنا

جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشقبولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سِل بنا

جس تیرگی سے روز ہے عشّاق کا سیاہشاید اسی سے چہرۂ خوباں پہ تِل بنا

لب زندگی میں کب ملے اُس لب سے اے کلالساغر، ہماری خاک کو مت کرکے گِل، بنا

اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گرٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دِل بنا

سُن سُن کے عرضِ حال مرا یار نے کہاسودا نہ باتیں بیٹھ کے یاں متّصِل بنا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں