5 اشعار

ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا

Tere khat aane se dil kar mere aaraam kya hoga

ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا

«ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگاخدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا

نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ ٖغربت میںزیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا

مجھے مت دیر سے تکلیف کر کعبے کے اے زاہدجو میرا کفر ایسا ہے تو پھر اسلام کیا ہوگا

مگر لائق نہیں اس دور میں ہم بادہ خواری کےجو دیوے گا تو اے ساقی، ہمیں بھی جام کیا ہو گا

کسی دیں دار و کافر کو خیال اتنا نہیں آتاسحر کیا ہو چکی سودا کے دل پر شام کیا ہو گا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں