7 اشعار

جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا

Jab khayal aata hai is dil mein tere atwaar ka

جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا

«جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کاسر نظر آتا نہیں دھڑ پر مجھے دو چار کا

دیکھتا ہوں یار میں جس گھر میں تجھ کو جلوہ گرمہر کو واں حکم ہے خارِسرِدیوار کا

عاشقوں کو شیخ دین و کفر سے کیا کام ہےدل نہیں وابستہ اپنا سبحہ و زنار کا

ٹک دکھا دےاپنی اپنی ساقی چشم میگوں تو اسےمحتسب ہو جائے بندہ خانہ خمار کا

بسکہ پوچھوں ہوں میں اپنی چشم خون آلود کوجامہ کا ہر ایک تختہ سیر ہے گلزار کا

آ خدا کے واسطے اس بانکپن سے درگزرکل میں سودا یوں کہا دامان گہہ کر یار کا

تند ہو بولا وہ بانکا چھوڑ دامن کو مرےراست ہوتے بھی کہیں دیکھا ہے خم کا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں