7 اشعار

کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے

Kisi ka dard-e-dil pyare tumhara naaz kya samjhe

کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے

«کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھےجو گزرے صید کے جی پر، اسے شہباز کیا سمجھے

رِہا کرنا ہمیں صیّاد اب پامال کرنا ہےپھڑکنا بھی جسے بھولا ہو سو پرواز کیا سمجھے

نہ پہنچے داد کو ہرگز ترے کوچے کا فریادیکسی کے شورِ محشر میں، کوئی آواز کیا سمجھے

نہ پوچھو مجھ سے میرا حال ٹک دنیا میں جینے دوخدا جانے میں کیا بولوں، کوئی غماز کیا سمجھے

کہا چاہے تھا کچھ تجھ سے میں لیکن دل دھڑکتا ہےکہ میری بات کے ڈھب کو تو اے طناز کیا سمجھے

جو گزری رات میرے پر کسے معلوم ہے تجھ بندلِ پروانہ کا جز شمع کوئی راز کیا سمجھے

نہ پڑھیو یہ غزل سودا تُو ہرگز میر کے آگےوہ ان طرزوں سے کیا واقف وہ یہ انداز کیا سمجھے

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں