5 اشعار

گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو

Gawah-e-wasl-e-adu sar jhuka ke dekh na lo

گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو

«گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لو» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لویہ بند بند جدا ہیں قبا کے دیکھ نہ لو

کسی کے عشق میں تکلیف کچھ نہیں ہوتیکسی سے چار گھڑی دل لگا کے دیکھ نہ لو

دل و جگر کا تڑپنا ہماری بیتابیجو دیکھنا ہے تو صورت دکھا کے دیکھ نہ لو

ہماری آہ کا کیا دیکھنا جو دیکھو گےوہی تو بات ہے جھونکے ہوا کے دیکھ نہ لو

اگر محبت مضطرؔ کے تم نہیں قائلتو ایک کام کرو آزما کے دیکھ نہ لو

— مضطر خیرآبادی