5 اشعار

پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں

Parda-e-dard mein aaram bta karte hain

پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں

«پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیںاس کی درگاہ میں انعام بٹا کرتے ہیں

باب ساقی پہ الٰہی مرا سورج ڈوبےشام ہوتے ہی جہاں جام بٹا کرتے ہیں

اس کے در پر مجھے اے گردش قسمت لے چلسب نکموں کو جہاں کام بٹا کرتے ہیں

پیاس میں دیدۂ درویش نے تعلیم یہ دیمیکدے جاؤ جہاں جام بٹا کرتے ہیں

دل مضطر کو تسلی وہی دے گا مضطرؔجس کی درگاہ میں آرام بٹا کرتے ہیں

— مضطر خیرآبادی