19 اشعار

وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو

Wafadari ki soorat mein jafa kaari ka naqsha tu

وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تویہ نیرنگ محبت ہے کہ ایسا میں ہوں ویسا تو

زمانہ کٹ گیا لیکن وہی حالت ہے دونوں کیادھر جیسے کا تیسا میں ادھر جیسے کا تیسا تو

جفا کر قہر کر جور و ستم کر ناز بے جا کرمگر یہ سوچ رسوا کون ہو جائے گا میں یا تو

کسے تاب تجلی ہے جو تجھ کو برملا دیکھےیہی پردہ بہت ہے بس اٹھا دے اپنا پردا تو

مرے دل کو بھی ساقی آرزوئے بادہ نوشی ہےیہ سن سن کر کہ اک کوزے میں بھر دیتا ہے دریا تو

محبت رہنمائے شوق تجھ سے سیکڑوں سیکھےمیں کچھ ان میں نہیں جن کو بتا دیتی ہے رستا تو

خدائی تو نے پیدا کی تو تیرے کام کیا آئیاکیلا یوں بھی رہتا تھا رہا یوں بھی اکیلا تو

قضا ہنگام آخر کوئی آتا ہے عیادت کومرے بالیں سے دم بھر کے لیے للہ ہٹ جا تو

محبت میں سراپا آرزو در آرزو میں ہوںتمنا دل مرا ہے اور مرے دل کی تمنا تو

وہ ایسا کون تھا جس نے کیا بدنام دونوں کودلوں کی بات یوں کہہ دے نہ ایسا میں نہ ایسا تو

کمال نیستی سے میں نے ہستی کا پتا پایاپکارا میں نے اپنے آپ کو اور مجھ میں بولا تو

ترے ہی رنگ صورت سے یہ سب نقشے چمکتے ہیںبگڑ جائیں گی سب شکلیں اگر ڈالے گا پردا تو

بھلا اے آئینے تو اور ان کی شکل دیکھے گاکہاں چشم تماشائی کہاں آنکھوں کا اندھا تو

وہ ایسا تو کہ تیرے ساتھ میں بدنام عالم میںوہ ایسا میں کہ میرے ساتھ ہے رسوائے دنیا تو

مری حالت تو جب بدلے کہ ایسا اور کو پاؤںمری آنکھیں تو جب جانیں دکھا دے اپنا جیسا تو

تجھی سے نقش ناکامی میں ہیں امید کے جلوےشب غم ہے قضا کے بھیس میں میرا مسیحا تو

ترے نقشے سے ہر نقشا ہے پھر یہ شرم کیا معنیتری صورت سے ہر صورت ہے کیوں کرتا ہے پردا تو

وجود ذات واحد ہے تو دو یکتائیاں کیسیادھر چاہت میں یکتا میں ادھر صورت میں یکتا تو

مری چاہت تری گاہک ہے اور قیمت دل مضطرؔترا جلوہ مرا بازار ہے اور میرا سودا تو

— مضطر خیرآبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں