9 اشعار

جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے

Jo mai dil se piye koi to phir rakhne nahin rahte

جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے

«جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتےذرا یہ صاف کر لی جائے پھر تنکے نہیں رہتے

ہمارا مے کدہ محفوظ ہے تاثیر موسم سےیہاں شیشے بھرے جاڑوں میں بھی ٹھنڈے نہیں رہتے

شراب ناب کے پینے سے ہاں اتنا تو ہوتا ہےپڑے رہتے ہیں جو آنکھوں پہ وہ پردے نہیں رہتے

قیام مے کدہ کے واسطے اقرار کیوں ساقیپلائے گا تو رہ جائیں گے اور ویسے نہیں رہتے

لباس ظاہری پر مے سے بے شک داغ پڑتے ہیںمگر پینے سے اندر قلب کے دھبے نہیں رہتے

نہیں دیتا جو مے اچھا نہ دے تیری خوشی ساقیپیالے کچھ ہمیشہ طاق پر رکھے نہیں رہتے

چھپائے کس طرح زاہد سے راز مے کشی کوئییہ حضرت مے کشوں کا حال بے پوچھے نہیں رہتے

نمازوں سے تھکے زاہد تو مے خانہ میں آ جانایہ اٹھنے بیٹھنے کے اس جگہ جھگڑے نہیں رہتے

خدا کے دامن رحمت سے اپنا دامن عصیاںوہ کیا ٹانکے گا جس کے آنکھ میں ڈورے نہیں رہتے

— مضطر خیرآبادی