5 اشعار

رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی

Rawaan rahta hai kis ki mauj mein din raat tu pani

رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی

«رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانی» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانیتجھے کس گوہر نایاب کی ہے جستجو پانی

وہی میرے لیے ساقی مئے گلفام بن جائےجو اپنے دست نازک سے پلا دے مجھ کو تو پانی

اگر دریا میں تم دست حنائی اپنے دھو لیتےتو اب تک ہو گیا ہوتا کبھی کا سرخ رو پانی

کیا کرتے تھے بڑھ بڑھ کر بہت باتیں صفائی کیمرے اشکوں نے کر دی موتیوں کی آبرو پانی

بہت آسان ہے مضطر ذلیل و خوار ہو جاناجو مشکل ہے تو چشم خلق میں کچھ آبرو پانی

— مضطر خیرآبادی