26 اشعار

جب درد پرانے ہو بیٹھے

Jab dard puraane ho baithe

جب درد پرانے ہو بیٹھےجب یاد کا جگنو راکھ ہوا

جب آنکھ میں آنسو برف ہوئےجب زخم سے دل مانوس ہوا

تب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوںپھر دل کو دھڑکنا یاد آیا !

جب کرب کی لمبی راہوں میںاحساس کے بال سفید ہوئے

جب آنکھیں بے سیلاب ہوئیںجب چاند چڑھا بے دردی کا

جب ریت پہ لکھی یادوں کوبے مہر ہوا نے چھین لیا

جب 'یاد رتیں' بے داد ہوئیںتب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں

پھر دل کو دھڑکنا یاد آیاجب آنکھیں کچھ آباد ہوئیں

جب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوںاحساس کا بچپن جاگ پڑا

پھر جذبے بے تقویم ہوئے!پھر وقت نے کچھ انگڑائی لی

پھر سوچ کی قبر سےدھول اڑیپھر پیاس کا برزخ بھول گیا

ایک ہجر سےکیا آزاد ہوئے؟سو ہجر نئے ایجاد ہوئے!

پھر اشک میں دریا قید ہواپھر دھڑکن میں بھونچال پڑے

پھر عشق کاجوگی گلیوں میںتقدیر کے سانپ اٹھا لایا

پھر ہوش کا جنگل سبز ہواپھر شوق درینہ جاگ اٹھا

پھر زلف کے تیور شام بنےاس شام میں پھرمہتاب چڑھا

پھر ہونٹ کی لرزش گیت بنیپھر شعر، شعور کا ورد ہوا

پھر خون سے لکھے جذبے بھی نیلام ہوئےپھر درد "زلیخا "بن بیٹھا

پھر قرب کا کرب جوان ہواپھر مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں

کچھ ہجر کی نبضیں تیز ہوئیںجب قید کو تازہ عمر ملی

اس قیدی عمر کے بختوں نےاک شامِ سہور سے پوچھ لیا

قید ہی رہنا تھا تو ہمیںوہ پچھلا ہجر ہی کافی تھا

کیوں پچھلے جال کو چھوڑا تھاکس عھد پہ پنجرہ توڑا تھا؟

جب جال تیری کمزوری تھےصیّاد کو کیوں بدنام کیا

اب سوچ رہا ہوں مدّت سےکیوں مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں؟

کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا

— نا معلوم