9 اشعار

شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے

Shikasta shab mein tumhaari wahshat ne sar uthaya to kya karo ge

شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گےتمہیں تمہارے ہی نیم خوابوں نے گر جگایا تو کیا کرو گے

پلک پلک سے چھلک رہی ہے مری اُداسی لہو کی صورتمگر اداسی کی بارشوں نے تمہیں رلایا تو کیا کرو گے

ہوائے ظلم و ستم نے میرا یہ خستہ گھر تو گرا دیا ہےانہی ہواؤں نے گر تمہارا دیا بجھایا تو کیا کرو گے

فراقِ وحشت سے تنگ ہو کر پلٹ بھی آؤ اے میرے ہمدمدیارِ الفت میں چلتے چلتے مجھے نہ پایا تو کیا کرو گے

ہماری حالت پہ مسکرا کر تَو چل دیے ہو مگر اے جاناںکوئی تمہاری جو بے بسی پر یوں مسکرایا تو کیا کرو گے

قفس پہ چلمن رکھی ہوئی ہے ذہن میں الجھن پڑی ہوئی ہےمگر پرندوں کو جب جنوں نے رہا کرایا تو کیا کرو گے

چلو یہ مانا کہ مَیں بھی تیرا اسیرِ زلفِ بلا ہُوں لیکنکبھی جو قدرت نے میرا دامن اگر چُھڑایا تَو کیا کرو گے

مجھے تَو ساگر نکال پھینکا ہے زندگی کی حقیقتوں سےتمہیں بھی لمحوں کی تیز رَو نے اگر بہایا تو کیا کرو گے

ساگر ملک

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں