24 اشعار

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

Vah aksar mujh se kahtī thī riyāzī kuchh sikhā do nā

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

«وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا» نا معلوم کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نایہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا

یہ قالب اور الجبرا یہ کیسے لاگ لیتے ہوجمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو

کسی طرح مجھے بھی اُم سائنس سے ملا دو ناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا

یہاں پہ مستقل کیا ہے تغیر کس کو کہتے ہیںتغیر کی بغل میں عددی سر کیوں چپکے رہتے ہیں

بڑی پُھرتی سے تم جو mod, median, mean لیتے ہوسوالوں سے جوابوں کے خزانے چھین لیتے ہو

یہ ناطق غیر ناطق سے جدا کر کے دِکھا دو ناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

اِسے اہلِ ادب نے خشک تر مضمون بولا ہےجو اس سے دل لگا بیٹھا، اُسے مجنوں بولا ہے

کہا میں نے ریاضی کا بہت دشمن زمانہ ہےریاضی اِک تخیّل ہے یہ شاعر کا فسانہ ہے

کہا اُس نے کہ کچھ مصرعے میرے شاعر سنا دو ناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

ہزاروں سال پہلے جبکہ پتھّر کا زمانہ تھاوہاں موجود نہ کوئی بھی گِنتی کا پیمانہ تھا

زُلیخا تھی نہ یُوسُف تھا، نہ اہرامِ مِصَر کوئیپتھر سے توازن تھا جو گِنتی تھی اگر کوئی

کہا اُس نے کئی صدیاں ریاضی کی پیدائش پرلگادوناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

ابھی جاناں بتانے کو جذر مجذور باقی ہیںکئی بلین ستاروں کے جہاں مفرور باقی ہیں

ابھی تو ابنِ مریم چُھپ کے بیٹھے تھے گلابوں میںمگر سُن۔لو کہ اِہلِ مصر ماہِر تھے حسابوں میں

بہت تاریخ گہری ہے، ٹریلر ہی دکھا دو ناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

"بَراہم گُپت" کی ایجاد اِک تا نَو و زیرو ہےیہاں تو ارشمیدس ایریا ، حجِّم کا ہیرو ہے

ابھی الخوارزمی آ کر جو الجبرا نکالے گازمانے بھر کے سب نالائقوں سے بددعا لے گا

جو مشکل ہے یہ الجبرا تو کچھ آساں پڑھا دو ناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

کلائی پر تِری جاناں جو کنگن کھنکھناتے ہیںیہی کنگن ریاضی کے بڑے سرکل بناتے ہیں

تِری زُلفوں کے بل تیری کمر کے ساتھ بنتے ہیںجو گیلی ہوں تو دلکش پیرابولِک پاتھ بنتے ہیں

مِری زُلفوں سے جو کُچھ بھی بنانا ہے بنا دو ناوہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

تِری آنکھوں میں بھی اِس علمِ فطرت کا اثاثہ ہےاے میرے دلربا اِن میں سفیّئر اِک شناسا ہے

جو اِک موصول مجھ سے پھول تم نے جان پایا تھاوہی اینگل محبت کا نگاہوں نے بنایا تھ

نا معلوم

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں