9 اشعار

ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا

Irada roz karta hoon, magar kuch kar nahin sakta

ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا

«ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا» نا معلوم کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتامیں پیشہ ور فریبی ہوں، محبت کر نہیں سکتا

میں تم سے صاف کہتا ہوں، مجھے تم سے نہیں الفتفقط لفظی محبت ہے، میں تم پہ مر نہیں سکتا

محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کوابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا

یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہےمیری آنکھوں میں آنسو ہیں، ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا

میں اپنی رات کی زلفوں میں خود چاندی سجاتا ہوںمیں اس کی مانگ میں وعدوں کے ہیرے جَڑ نہیں سکتا

" بھلے جھوٹا منافق ہوں، بہت دھوکے دئیے، لیکنمحبت کی صدا ہوں میں، میں دھوکا کر نہیں سکتا "

میں اس گھر کا مقیمی ہوں، جسے اوقات کہتے ہیںمیں اپنی حد میں رہتا ہوں، سو آگے بڑھ نہیں سکتا

ابھی کچھ شعر رہتے ہیں، مگر لکھنے نہیں ہرگزکسی کی لاج رکھنی ہے، سو ظاہر کر نہیں سکتا.

علی سرمد

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں