6 اشعار

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے

Jab kaam ishq hai phir kya din hai raat kya hai

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے

«جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے» نا معلوم کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہےنہیں کام عشق سے کچھ تو پھر حیات کیا ہے

میری خبر کس طرح دے میرا ظاہری لبادہمیری روح بتائے گی میری اصل ذات کیا ہے

کافی نہیں تھا کہنا کے میں بندہ خدا ہوںکیوں پوچھتے ہو میرا مسلک فرقہ ذات کیا ہے

سب بات کررہے ہیں ہر بات پہ دلیلیںاور یاد تک نہیں ہے کہ دل کی بات کیا ہے

تیرے عشق سے فروزاں میرے دل کے آبگینےتو ساتھ ہے اگر تو یہ کائنات کیا ہے۔

محمد احمد بن راشد

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں