نظم 7 اشعار

اپنے قاتل کے لیے ایک نظم

Apne Qaatil Ke Liye Ek Nazm

اگر میرے سینے میں خنجر اتاروتو یہ سوچ لینا

ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ہےہوا تو روانی ہے

عمروں کے بہتے سمندر کیلمبی کہانی ہے

آغاز جس کا نہ انجام جس کااگر میرے سینے میں خنجر اتارو

تو یہ سوچ لیناہوا موت سے ماورا ہے

ہوا ماں کے ہاتھوں کی تھپکیہوا لوریوں کی صدا ہے

ہوا ننھے بچوں کے ہونٹوں سےنکلی دعا ہے

— نصیر احمد ناصر