نظم 23 اشعار

پانی میں گم خواب

Paani Mein Gum Khwab

خواب اور خواہش میںفاصلہ نہیں ہوتا

عکس اور پانی کےدرمیان آنکھوں میں

آئینہ نہیں ہوتاسوچ کی لکیروں سے

شکل کیا بناؤ گےدرد کی مثلث میں

زاویہ نہیں ہوتابے شمار نسلوں کے

خواب ایک سے لیکننیند اور جگراتا

ایک سا نہیں ہوتاجوہری نظاموں میں

نام بھول جاتے ہیںکوڈ یاد رہتے ہیں

ایٹمی دھماکوں سےتابکار نسلوں کے

خواب ٹوٹ جاتے ہیںشہر ڈوب جاتے ہیں

مرکزے بکھرتے ہیںدائرے سمٹتے ہیں

رقص کے تماشے میںارض و شمس ہوتے ہیں

اور خدا نہیں ہوتاصد ہزار سالوں میں

ایک نور لمحے کاٹوٹ کر بکھر جانا

حادثہ تو ہوتا ہےواقعہ نہیں ہوتا

ہسٹری تسلسل ہےایک بار ٹوٹے تو

دوربیں نگاہیں بھیتھک کے ہار جاتی ہیں

گمشدہ زمینوں سےمنقطع زمانوں سے

رابطہ نہیں ہوتاننھے منے بچوں کے

نوبہار ہاتھوں میںپھول کون دیکھے گا

آنے والی صدیوں میںتیری میری آنکھوں کے

خواب کون دیکھے گازیر آب چیزوں کا

کچھ پتا نہیں ہوتا!

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں