نظم 11 اشعار

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے

Tum Ne Ise Kahan Dekha Hai

کبھی تم نے دیکھا ہےخوابوں سے آگے کا منظر

جہاں چاند تاروں سے روٹھی ہوئیرات اپنے برہنہ بدن پر

سیہ راکھ مل کرالاؤ کے چاروں طرف ناچتی ہے!

کبھی تم نے جھانکا ہےپلکوں کے پیچھے

تھکی نیلی آنکھوں کے اندرجہاں آسمانوں کی ساری اداسی

خلا در خلا تیرتی ہےکبھی تم نے اک دن گزارا ہے

رستوں کے دونوں طرف ایستادہگھنے سبز پیڑوں کے نیچے

جہاں دھوپ اپنے لیےراستہ ڈھونڈھتی ہے!

کبھی تم نے پوچھا ہےچلتے ہوئے راستے میں

کسی اجنبی سےپتا اس کے گھر کا

ہوا جس کے قدموں کے مٹتے نشاں چومتی ہےنگر در نگر گھومتی ہے!!

— نصیر احمد ناصر