غزل 11 اشعار

ریگ ہستی کا استعارہ بن

Reg-e-hasti ka istiara ban

ریگ ہستی کا استعارہ بناے سمندر کبھی کنارہ بن

یوم وارفتگی منا اک دنرقص کرتے ہوئے شرارہ بن

اپنی مرضی کی شکل دے خود کوخود کو سارا مٹا دوبارہ بن

چھوڑ باقی تمام سازوں کوبس محبت کا ایک تارا بن

پھول بن کر دکھا زمانے کوسنگ مرمر نہ سنگ خارا بن

ایک دھاگے سے باندھ لے خود کوہلکا پھلکا سا ہو غبارہ بن

بادلوں سے اتر زمیں پر آآب استادہ تیز دھارا بن

میری آنکھوں میں آ محبت سےمیرا دیکھا ہوا نظارہ بن

مجھ میں تعمیر کر مکاں اپنادر دریچہ کگر اسارا بن

اتنی خاموشیوں سے بہتر ہےکوئی معنی بھرا اشارہ بن

صبح تک خوب جگمگا ناصرؔرات کا آخری ستارہ بن

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں