7 اشعار

درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا

Dard ki dhoop se chehre ko nikhar jaana tha

درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا

«درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھاآئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا

راہ میں ایسے نقوش کف پا بھی آئےمیں نے دانستہ جنہیں گرد سفر جانا تھا

وہم‌ و ادراک کے ہر موڑ پہ سوچا میں نےتو کہاں ہے مرے ہم راہ اگر جانا تھا

آگہی زخم نظارہ نہ بنی تھی جب تکمیں نے ہر شخص کو محبوب نظر جانا تھا

قربتیں ریت کی دیوار ہیں گر سکتی ہیںمجھ کو خود اپنے ہی سائے میں ٹھہر جانا تھا

تو کہ وہ تیز ہوا جس کی تمنا بے سودمیں کہ وہ خاک جسے خود ہی بکھر جانا تھا

آنکھ ویران سہی پھر بھی اندھیروں کو نصیرؔروشنی بن کے مرے دل میں اتر جانا تھا

— نصیر ترابی