7 اشعار

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

Dekh lete hain ab us baam ko aate jaate

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

«دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتےیہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے

دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسےنقش پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے

تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والیاب حذر ہوتا ہے اس راہ سے آتے جاتے

شہر بے مہر کبھی ہم کو بھی مہلت دیتااک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے

پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنےدور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے

ہر گھڑی ایک جدا غم ہے جدائی اس کیغم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے

اس کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔاتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے

— نصیر ترابی