9 اشعار

جھوٹی دنیا جھوٹی مایا

Jhooti duniya, jhooti maya

جھوٹی دنیا جھوٹی مایاکون ہے اپنا کون پرایا

عمر گنوائی تھاہ نہ پائیعشق میں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا

پریم نگر کی ریت نئی ہےجس نے کھویا اس نے پایا

ان کی خوشی ہے یاد نہ آئیںہم نے کب ان کو دل سے بھلایا

ٹوٹے دل کو جوڑ نہ پائےاس کو دکھایا اس کو دکھایا

دے ہی دیا دل ان کو آخربیٹھے بٹھائے روگ لگایا

غم کے مارے ایسے سوئےجاگ نہ پائے لاکھ جگایا

کون کسی کا تیرے سوا تھاتو نے بیڑا پار لگایا

جان گئے ہم ناشادؔ آخرجھوٹے جگ کی جھوٹی مایا

— ناشاد کانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں