5 اشعار

ملی فرصت اگر رنج و بلا سے

Mili fursat agar ranj o bala se

ملی فرصت اگر رنج و بلا سےکہیں گے ہم بھی کچھ اپنے خدا سے

خدا نا خواستہ تم سے گلہ ہوشکایت ہے ہمیں اپنی دعا سے

یوں ہی ربط ان سے مجھ سے ہر نفس ہےہو جیسے غنچہ و گل کا صبا سے

کوئی مانگے تو کیا دنیا سے مانگےملے کیا خاک بے برگ و نوا سے

کبھی ناشادؔ کو دیکھا تو بولےنظر آتے ہیں صورت آشنا سے

— ناشاد کانپوری