4 اشعار

اپنی مرضی کے خلاف

Apni Marzi Ke Khilaf

وہ جو مستقبل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھےماضی کا قہوہ پی رہے ہیں

حال بہت بڑی بساط ہے شطرنج کیان کے لیے

اور عام آدمیوہ مہرہ جو پٹ رہا ہے

شاہ کو بچانے کے لیےاپنی مرضی کے خلاف

— نعمان شوق